کیا قرآن نے بائبل کو منسوخ کر دیا ہے؟ کتاب مقدس، قرآن اور مسئلہ نسخ و المنسوخ

بہت سے  احباب کا یہ ایمان ہے کہ کتاب مقدس  بائیبل خدا کا کلام ہے لیکن کہتے ہیں کہ قرآن نے آکر اسے منسوخ کر دیا ہے.  کیا یہ دعویٰ  قرآن کی روشنی میں سچ پر مبنی ہے ؟

 ہمارا مطالعہ یہ ہے کہ اس قسم کا دعویٰ ٹھوس ثبوت پر مبنی  نہیں  ۔ قرآن جسے تابعین اور تبع تابعین نے سمجھا اور اس کی تشریح کی  ، ان کے نزدیک لفظ نسخ دراصل قرآن میں قرآن ہی کی کچھ آیات کے بارے میں آیا ہے ۔

 اس موضوع پرنامی گرامی بزرگان اسلام نے بہت کچھ لکھا ہے۔ قرآن کے ابتدائی مفسرین کے علاوہ جید علماء   جیسے امام  الشافعی اور دیگر ہستیوں جیسے ابو عبید سلام،  ابو داؤد،   ابو جعفر نحاس ، ابن الانباری اور جلال الدین سیوطی نے   آیات کی اسباب نزول  کے بارے میں ذکر کرتے ہوئے  یہ بحث کی ہے کہ کیسے کئی آیات قرآن کی منسوخ ہو چکی ہیں ۔ اس نظریہ کا پورا عنوان  نسخ ،الناسخ و المنسوخ  ہے ۔ سادہ مطلب اس  عقیدہ کا یہ ہے کہ قرآن کی  کچھ آیات کوقرآن ہی کی دوسری آیات نے  جو  پیغمبر اسلام  کی نبوت کے آخری حصہ میں نازل ہوئیں   منسوخ کر دیا اور ان پر عمل کرنا ضروری نہیں ۔

اس عقیدہ کے ثبوت میں سورۃ البقرہ کی آیت 106 کا حوالہ دیا جاتا ہے ۔ مَا نَنۡسَخۡ مِنۡ اٰیَۃٍ اَوۡ نُنۡسِہَا نَاۡتِ بِخَیۡرٍ مِّنۡہَاۤ اَوۡ مِثۡلِہَا ؕ اَلَمۡ تَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ   ہم اپنی جس آیت کو منسوخ کر دیتے ہیں یا بھلا دیتے ہیں ، اس کی جگہ اس سے بہتر لاتے ہیں یا کم از کم ویسی ہی. کیا تم جا نتے نہیں کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے؟

  نسخ و منسوخ   کا دوسرا حصہ یہ ہے کہ کچھ آیات قرآن کی ایسی بھی ہیں جن کے بدلے کوئی دوسری آیات نازل نہیں ہوئیں ۔  پھر اس عقیدہ کا تیسراحصہ یہ ہے  کہ کچھ آیات  قرآن کی صحابہ تلاوت کرتے تھے لیکن    جب قرآن اکھٹا کیا گیا  تو وہ شامل نہیں ہوئیں ۔ کیونکہ خدا نے ان کی یاداشت دلوں سے نکال دی ۔  اس کے ثبوت کے لئے سورۃ الرعد  کی آیت انتالیس  کا حوالہ دیا جاتا ہے  یَمۡحُوا اللّٰہُ مَا یَشَآءُ وَ یُثۡبِتُ وَ عِنۡدَہٗۤ اُمُّ الۡکِتٰبِ اللہ جو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جس  کو چاہتا ہے قائم رکھتا ہے، اُمُّ الکتاب اُسی کے پاس ہے ۔

لفظ محو یا مٹا دینے کی مثالوں میں ایک مثال یہ ہے  ۔  کہا جاتا ہے کہ پیغمبر اسلام کے زمانے میں سورۃ  احزاب میں دو سو  آیات تھیں ۔ بعض کہتے ہیں کہ در اصل سورۃالبقرہ  کے برابر تھی ۔ لیکن ان کی وفات کے بعد جب حضرت عثمان کی خلافت کے دوران  قرآن اکھٹا کیا گیا تو صرف اتنی ہی آیات ملیں جو اب ہیں۔  موجودہ قرآن میں سورۃ احزاب میں  تہتر آیات ہیں جبکہ سورۃ البقرہ میں  دو سو چھیاسی آیات ۔ دیگر الفاظ میں213آیات  موجودہ قرآن کی سورۃ احزاب میں موجود نہیں ۔ کہتے ہیں یہ آیات  منسوخ ہوگئیں یا اللہ تعالیٰ نے اس کی تلاوت صحابہ کے دلوں سے محو کر دی ۔ یہ ساری بحث آپ کو  مثلاً السیوطی کی کتاب الاتقان فی علوم القرآن میں فصل نسخ و المنسوخ کے باب میں پڑھنے کو مل سکتی ہے ۔ منسوخ ہوئیں آیات کی تعداد پانچ سے کئی سو تک پہنچتی ہے ۔ ضمناً یہ  بحث  کافی نزاعی ہے ۔   ہمارا مقصد  یہاں پر صرف اتنا  ہے  کہ واضح ہو  کہ نسخ و منسوخ کا سلسلہ قرآن کا معاملہ ہے ۔ اس میں پہلی کتا بیں یعنی کلام مقدس شامل نہیں ۔

جب مخالفین نے پیغمبر اسلام پر قرآن مین متضاد آیات بیان کرنے کا الزام لگایا تو کہا جاتا ہے کہ اس کے جواب میں  سورہ  النحل کی آیت ۱۰۱ نازل ہوئی: وَ اِذَا بَدَّلۡنَاۤ اٰیَۃً مَّکَانَ اٰیَۃٍ ۙ وَّ اللّٰہُ اَعۡلَمُ بِمَا یُنَزِّلُ قَالُوۡۤا اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُفۡتَرٍ ؕ بَلۡ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ  ۔ جب ہم ایک آیت کی جگہ دُوسری آیت بدل دیتے  اور اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ کیا نازل کرے  ۔  تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ تم  مفتر ہو یعنی یہ قرآن خود گھڑتے ہو۔ لیکن  اکثر لوگ حقیقت سے ناواقف ہیں۔ اب جب ہم اس آیت پر غور کرتے ہیں تو صاف پتہ چلتا ہے کہ اس آیت میں یہ نہیں آیا کہ اللہ نے ایک کتاب کو منسوخ کرکے دوسری کتاب نازل کی بلکہ قرآن کی ایک آیت کے بدلے دوسری آیات نازل کی ۔ سیاق و سباق سے اور دیگر احوال اور روایات سے بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ یہاں  پیغمبر اسلام پر نازل ہوئی پہلی آیات  کی جگہ دوسری آیات کے اترنےکا  ذکر ہے نہ کہ توریت، زبور اور انجیل اور صحائف انبیاء کی آیات کے منسوخ ہونے کا۔

قرآن  جو تمام مسلمانوں کے لئے اول درجہ کی گواہی ہے وہ کہیں بھی یہ نہیں کہتا کہ پہلی کی کتابیں منسوخ ہوگئیں بلکہ ان کی تصدیق کرنے کی شہادت پیش کرتا ہے ۔ مثلاً سورۃ آل عمران میں نَزَّلَ عَلَیۡکَ الۡکِتٰبَ بِالۡحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیۡہِ  اُس نے تم پر یہ کتاب نازل کی ، جو حق لے کر آئی ہے اور تصدیق کر رہی ہے ان کی جو ان کےہاتھوں میں ہے ۔ دیگر آیات میں   مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَکُمۡ  اور  مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَھمۡ   کے الفاظ  استعمال ہوئے ہیں ۔  مزید یہ کہ  اگر قرآن نے اہل  کتاب کی کتاب کو منسوخ کیا ہوتا تو  سورۃ المائدہ کی آیت 43  میں  ہمیں یہ بیان نہ ملتا ۔  وَ کَیۡفَ یُحَکِّمُوۡنَکَ وَ عِنۡدَہُمُ التَّوۡرٰىۃُ فِیۡہَا حُکۡمُ اللّٰہِ  اور یہ تمہیں کیسے حَکم بناتے ہیں جبکہ ان کے پاس توراة موجود ہے جس میں اللہ کا حکم لکھا ہوٴا ہے ۔

 

کچھ احباب یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ اگر کلام مقدس غیرمنسوخ  بھی ہو توبھی  ہم اس پر عمل نہیں کرتے کیونکہ جو کچھ اس میں ہے وہ پوری تفصیل سے قرآن میں موجود ہے ۔  ان کا یہ کہنا   قرآن اس کے برعکس ہے ۔کیونکہ اس کا دعویٰ تو یہ ہے کہ قرآن پہلے کی کتابوں میں موجود ہے۔  وَ اِنَّہٗ لَفِیۡ زُبُرِ الۡاَوَّلِیۡنَ

 مثلاً قرآن  زمین و آسمان کی تخلیق ، آدم کا جنت سے نکلنے کا واقعہ ، طوفان نوح  اور انبیاء اسرائیل کا بیان خلاصہ کے طور پرپیش کرتا ہے لیکن تفصیل سے نہیں ۔  پورے معاملہ کو صحیح طرح سے سمجھنےکے لئے   کتاب مقدس  میں یہ سب کچھ موجود ہے  ۔  اب شایدکوئی  یہ پوچھے تو پھر قرآن کی کیا ضرورت تھی؟

 اس کا جواب بھی قرآن ہی میں ملتا ہے ۔  قرآن  خود یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ آیا تاکہ اہل عرب کا ایک خاص عذر دور کر دے ۔ ان  کا عذر  یہ تھا  کہ  ’ ہم توریت اور انجیل کی زبانیں سمجھنے سے قاصر ہیں۔ خدا ان لوگوں کی طرح ہمیں کیوں ایک کتاب نہیں دیتا۔ ملاحظہ ہو سورۃ الانعام کی   آیات 156 اَنۡ تَقُوۡلُوۡۤا اِنَّمَاۤ اُنۡزِلَ الۡکِتٰبُ عَلٰی طَآئِفَتَیۡنِ مِنۡ قَبۡلِنَا ۪ وَ اِنۡ کُنَّا عَنۡ دِرَاسَتِہِمۡ لَغٰفِلِیۡنَ   ’سو اب تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ کتاب تو ہم سے پہلے کے دو گروہوں کو دی گئی تھی،  اور ہم کو کچھ خبر نہ تھی کہ وہ کیا پڑھتے پڑھاتے تھے۔ ‘

ازروئے قرآن ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ پیغمبر اسلام قرآن کی حقانیت اور ہدایت کے ثبوت میں کلام مقدس  کی کتاب کو شانہ بشانہ رکھتے ۔ مثلاً سورۃ القصص کی آیت انچاس  قُلۡ فَاۡتُوۡا بِکِتٰبٍ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ہُوَ اَہۡدٰی مِنۡہُمَاۤ اَتَّبِعۡہُ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ اِن سے کہو’اچھا، تو لاوٴ اللہ کی طرف سے کوئی کتاب جو اِن دونوں سے زیادہ ہدایت بخشنے والی ہو اگر تم سچے ہو تو ، میں اسی کی پیروی اختیار کروں گا‘   ۔  اسی طرح سے سورۃ البقرہ ، سورۃآل عمران کی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن پہلی کی کتابوں پر ایمان لانے اور ان  میں کسی قسم کی تفریق نہ رکھنے کی تلقین کرتا ہے ۔ لاَ نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْهُمْ

ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ کلام مقدس بایئبل کو پڑھیں کیونکہ قرآن بھی کہتا ہے اس میں ہدایت اور نور  ہے ۔ در اصل بائبل مقدس میں خدا کا فہم ، انسان کی حالت ، راہ نجات ، گنہگاروں کا انجام اور ایمانداروں کے لئے  ہمیشہ زندگی   کا پیام ہے   ۔ اگرچہ  دنیا میں بہت سے بزرگ اور نبی آئے لیکن حضور المسیح  کلمۃ اللہ سب سے جدا ہیں  وہ صاف صاف الفاظ میں یہ دعویٰ کرتے  ہیں ۔ راہ ، حق اور زندگی میں ہوں (یوحنا 6 : 14 )  وہ فرماتے ہیں   میں جانتا ہوں کہاں سے آیا ہوں اور کہاں جاؤں گا ( یو حنا 8 : 14  قیامت اور زندگی تو میں ہوں ۔  جو مجھ پر ایمان لاتا ہے گو وہ مر جائے تو بھی زندہ رہے گا ۔  ( یو حنا 11: 25 )

حضور المسیح نے  یہ بھی فرمایا ہے  ’ آسمان اور زمین ٹل جائیں گے لیکن میری باتیں ہرگز نہ ٹلیں گی‘ (متی 24 : 35 )

اس کتاب میں آپ کوفردوس میں  ہمیشہ کی زندگی حاصل کرنے کے بارے میں تسلی بخش ذکر ملے گا۔   وہ ہمیشہ کی زندگی جو حضور المسیح کے وسیلہ سے ان تمام لوگوں کے لئے ہے جو اس پر ایمان لاتے ہیں ۔

اگر آپ کی دعا خدائے ذوالجلال سے یہ ہے کہ     اھدنا الصراط المستقیم  ہمیں سیدھی راہ میں چلنے  کی  رہنمائی  کر۔

تو جان لیں کہ حضور المسیح نے کہا ہے ۔ انا ھو صراط  ۔   نہ  صرف راہ  بلکہ حق اور زندگی بھی ۔

ہماری دعا ہے کہ  رب العزت آپ کو اس معاملہ پر سنجیدگی سے غور کرنے کا موقع عطا کرے اور اس کا اطمینان اور  ہدایت  آپ کے شامل حال ہو ۔