کتاب مقدس کی تعلیم

پرانے عہدنامے یعنی عہد عتیق میں ہمیں انسان کی تخلیق ، طوفان نوح اور حضرت ابرا ہیم خلیل اللہ  اور ان کے خاندان  کے بارے میں ذکر ملتا ہے خاص طور سے حضرت یعقوب کی  ذریت یعنے بنی اسرائیل  کا خصوصی ذکرپوری تفصیل سے موجود ہے  ۔  اس کے علاوہ کتاب مقدس کے اس حصہ میں  بنی اسرائیل کے  ساتھ اس عہد  کے مختلف پہلوؤں کا ذکر بھی موجود ہے  جو خدا نے حضرت موسٰی کلیم اللہ  کی معرفت  قائم کیا ۔  اس حصے میں مصر کی غلامی سے بنی اسرا ئیل کی معجزانہ مخلصی اور حضرت موسٰی کی بدولت  شریعت  دینے اور اس کی فرمانبرداری کے  احکامات  موجود ہیں ۔ اسی طرح بنی اسرائیل کی  زندگی میں آنے والےمختلف نشیب وفراز،  خدا کے خلاف ان کی بغاوت ، متعدد انبیاء کے انتباہوں اور خدا کی طرف سے نازل ہونے والی سزا کا ذکر بھی  اس حصہ میں موجود ہے ۔

پرانے عہدنامے کے اس مجموعے میں حضرت داود  کی کتاب زبور اور حضرت سلیمان کو عطا کی گئی حکمت آموز  نصائح  بھی شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ ایک کتاب بنام ایوب بھی اس عہدنامے میں شامل ہے  جس میں حضرت ایوب کا مختلف  آزمائشوں سے گزرنے کے  واقعات اور ان کے صبر کرنے کی مثالوں کا ذکرملتا  ہے ۔   برازیں اس سارے مجموعے میں آنے والے مسیح  موعود کے بارے میں پیش گوئیوں اور نئے عہدنامے کے دئے جانے کا  حال بھی خاص  طور سے مرقوم  ہے ۔

نیا عہدنامہ یا عہد نامہ جدید جسے انجیل مقدس اور انجیل جلیل  کے نام سے بھی جانا جاتا ہے  یہ  ان پیش گوئیوں کی تکمیل اور اس نئے عہد کی داستان ہے جو خدا نے حضور المسیح کی معرفت قائم کیا ۔  اس حصے کے پیغام کا  مرکز و محور خدا  کی تقدیس  اور مسیح کلمتہ اللہ کی بدولت بنی  آدم کی نجات ہے ۔

نئے عہد نامے میں انجیل مقدس کی پہلی چار کتابیں سیدنا مسیح کی حیات طیبہ کے بارے میں بیان کرتی ہیں  ۔  ان میں  حضور المسیح کے اقوال زرّیں  اور جو کچھ انہوں نے اس زمیں پر اپنی پہلی آمد کے دوراں کیا ، مرقوم ہے۔اس کے بعد رسولوں کے اعمال کی کتاب میں ان حالات کا بیان ہے جو حضور المسیح کے حوارئین اور ابتدائی تابعین کو المسیح کی خوشخبری کی تبلیغ کے دوران  پیش آئے۔ رومیوں تا  یہودا خطوط ہیں ۔  مسیح کے حواریوں  کے یہ خطوط پیغام نجات کے برکات اور نصائح کی تفصیل پر مبنی ہیں  ۔

اس عہدنامے کی آخری کتاب بنام مکاشفہ  ہے ، اس میں دنیا میں آنے والے  حالات  اور ایمانداروں پر آنے والے مصائب  اور ان  کے صبر کا ذکر آتا ہے ،   اسکے علاوہ جو مسیح کی سچائی پر ایمان نہیں لاتے اور ابلیس کے  ساتھ چلتے ہیں نتیجتاً  جس عذاب کی سزا پائیں گے، اسکا ذکر اس کتاب  میں آتا ہے  ۔ مکا شفہ کی یہ کتاب  ایمانداروں کی نجات اور ہمیشہ کی زندگی کا پیشگی نظارہ بھی پیش کرتی ہے ، کہ کیسے خود خدا ئے بزرگ و برتر اپنے  ایمانداروں کے  آنسو پونچھ دے گا اور اس  کا مسکن  ان کے درمیان ہوگا ۔