کتاب مقدس کی الہامی حیثیت

کتاب مقدس  کی  الہامی حیثیت

لفظ بائیبل سے مُراد کتابوں کا مجموعہ ہے ۔ اسے کتاب ،کلام الٰہی،  کلام مقدس اور بائیبل مقدس کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے ۔  تقریباًچالیس مختلف بزرگوں  نے 1500 سال کے طویل عرصے  میں قلم بند کیا ۔ انہوں نے تین مختلف زبانیں استعمال کیں اور اسے تین مختلف براعظموں میں بیٹھ کر لکھا۔عہد عتیق کاکثیر حصہ عبرانی میں لکھا گیا اور کچھ آرامی زبان میں۔ نیا عہدنامہ یا عہد جدید رائج الوقت یونانی زبان میں تحریر کیا گیا۔  ان تمام مختلف  حالات اور گردش دوراں کے باوجود اس کلام کا ہر حصہ زندگی کے  سب سے زیادہ نزاعی اور بحث طلب مسائل کے ضمن میں ایک ہی بات کرتا ہے ۔ اور وہ ہے خداوند بزرگ و برتر کی طرف انسان کی  واپسی اور اس کی خوشنودی میں ہمیشہ کی زندگی ۔

کلام مقدس کا پہلا حصہ خدا کے  اس عہد اور  شراکت کے بارے میں ذکر کرتا ہے جو اس نے بنی اسرائیل کے ساتھ قائم کیا اور ان کی طرف پیغمبر اور خدا رسیدہ بزرگوں کو بھیجا تاکہ نیک زندگی گزارنے کی تلقین کریں ۔ اس میں بنی اسرائیل  کی زندگی کے مد و جزر ، ان کی نافرمانی ، سزا اور توبہ کا ذکر بھی آتا ہے ۔ اس طرح سے آنے والے زمانے کے بارے میں پیشنگوئیاں ہیں کہ خدا  ایک نیا عہد بنی اسرائیل سے باندھے گا  جس میں تمام دنیا کے لوگوں کو بھی شامل کیا جائے گا ۔ اس عہد کی  تکمیل حضور المسیح کی آمد میں پوری ہوگئی ۔ ان باتوں  کا ذکر کلام مقدس کے دوسرے حصہ یعنی نئے عہدنامہ میں  آتا ہے ۔ المسیح کی حیات طیبہ کے علاوہ اس میں آپ کے ابتدائی پیروکار یعنی تابعین ، ان کی تعلیمات  ،روح القدس کی عنایت اور رہنمائی اور نصائح  کا ذکر موجود ہے ۔  آخری صفحات  میں  دنیا کے حالات ، المسیح کے پیروکاروں پر  شیطانی طاقتوں کے حملوں ،بہت سے ایمانداروں کی شہادت ، حضور المسیح کی آمد ثانی اور اس کے علاوہ قیامت اور جزا اور سزا کا منظربھی  سامنے آتا ہے۔ 

خدا کا کلام

بائیبل مقدس خدا کے مکاشفے کا الہامی ریکارڈ ہے اور وہ ہستیاں جنہوں نے اسے قلم بند کیا ، انکی رہنمائی خداوند تعالیٰ نے خودروح القدس کے وسیلہ سے کی ۔  حضور المسیح کے ایک حواری بنام پطرس نے یوں فرمایا:

 یہ تمہارے لئے جاننا اہم ہے کہ صحیفوں میں کبھی بھی کو ئی بھی نبوت کسی بھی شخص کی اپنی ذاتی اختیار پر موقوف نہیں ہے۔ کیوں کہ نبوت کی کو ئی بات آدمی کی مر ضی سے نہیں آئی۔ لیکن وہ لوگ روح القدس کی رہنمائی کے سبب سے خدا کا پیغام بولتے تھے۔ ‘ (2پطرس  20 - 22باب 1 اور آیات )

خدائے بزرگ وبرتر نے اپنا کلام  نہ صرف عام انسانی زبان میں نازل کیا بلکہ مختلف ادبی اصناف جیسے تاریخی بیان ، شاعری ، ضرب الامثال ، تبلیغی اوصاف اور ناصحانہ انداز بھی استعمال کئے ۔  یہی وجہ ہے کہ اس کلام میں  یہ ہدایت ہے کہ ’ہر ایک  صحیفہ جو خدا کے الہام سے ہے تعلیم اور اصلاح اور راستبازی میں تربیت کرنے کے لئے فائدہ مند بھی ہے ۔ تاکہ مرد خدا کامل بنے اور ہر ایک نیک کام کے لئے بالکل تیار ہو جائے ۔‘ (2 تیموتھیس   3 : 16-17)

مسیحیوں کے علاوہ کسی مسلمان کے لئے بھی یہ کوئی نیا تصور نہیں کیونکہ قرآن  کی تعلیمات میں بھی وحی اور الہام جیسے الفاظ کا ذکر آتا ہے ۔ کہ خداائے تعالیٰ نے  اپنے ان بندوں پر وحی اور الہام نازل کئے جن کو خاص مقصد کے لئے اس نے چنا ۔  دراصل قرآن یہ بھی بتاتا ہے کہ حضور المسیح کے حوارئین پر بھی وحی اتری  ( سورۃ المائدہ آیت  111) ۔

عہد عتیق پر ایک نظر

’خداوند فرماتا ہے‘ یہ جملہ  تقریباً ۳۸۰۰ دفعہ عہد عتیق میں آیا ہے ۔  اس سے ظاہر ہے کہ ملہم  بندے خدا کے احکام پیش کررہے تھے۔ ان بندگان خدا میں ایسی  ہستیاں شامل ہیں جن کا ذکر قرآن میں بھی آتا ہے   مثلاً حضرت موسیٰ اور  حضرت داؤد، حضرت سلیمان  اور دیگر جیسے حضرت یونس  اورحضرت   ایوب ۔

کچھ اہم مثالیں

کلام مقدس میں توریت کے حصہ میں یہ مرقوم ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت موسیٰ  کلیم اللہ سے مخاطب ہو کر  فرمایا ’ سو اب تو جا اور میں تیری زبان کا ذمہ لیتا ہوں اور تجھے سکھاتا رہوں گا کہ تو کیا کچھ کہے ۔‘ (خروج  4:12 ) اس سے ہم یہ سیکھتے ہیں کہ خدا نے حضرت موسیٰ کو الہام بخشا ۔ کلام مقدس میں ہم یہ بھی پاتے ہیں کہ خدا حضرت داؤد کے وسیلہ سے  بھی ہم کلام ہوا جب آپ نے فرمایا ’ خداوند کی روح نے میری معرفت کلام کیا اور اس کا سخن (کلام) میری زبان پر تھا ‘ (  2سیموئیل 23 : 2)  کلام مقدس میں  کثیر ذخیرہ مزامیر کا حضرت داؤد پر نازل ہوا ۔

پھر  الہام کا  ثبوت کلام مقدس میں ہمیں دیگر صحائف انبیاء  میں بھی ملتا ہے  مثلاً حضرت یرمیا ہ کے صحیفہ میں  درج ہے کہ حق تعالیٰ نے آپ سےفرمایا ’ میں نے اپنا کلام تیرے منہ میں ڈال دیا ۔‘ (یرمیاہ 1 : 9 )

خدائے قدوس بزرگ و برتر  نے نہ صرف کلام کیا بلکہ کئی ایک کی زندگی کے واقعات کو بھی ہمارے لئے درج کروایا تاکہ اس سے سبق حاسل کر سکیں مثلاً ایستر ، روت اور حضرت ایوب کا حال۔ یہ سب مختلف انداز سے خداوند کی عظمت اور اس طریق کو پیش کرتے ہیں   کہ کیسے خدا کی محبت زمان و مکان کی حدود کو  پار کرکے ہر فرد بشر کے لئے فکر مند ہے  ۔

کلام مقدس کے بارے میں حضور المسیح کلمۃ اللہ کا فرمان

آپ  عموماً  عہدعتیق   کی آیات اپنے سامعین کے سامنے دہراتے اور بتاتے کہ کس طرح سے اس میں ان کی آمد کی پیشنگوئیاں ہیں ۔ آپ نے فرمایا ۔ ’ضرور ہے کہ جتنی باتیں موسیٰ کی توریت اور نبیوں کے صحیفوں اور زبور میں میری بابت لکھی ہیں پوری ہوں ‘ (لوقا  24  : 44)۔ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیدنا مسیح ایمان رکھتے تھے کہ عہد عتیق یعنی پرانا عہد نامہ خدا کا کلام ہے کیونکہ یہ عہدنامہ  انہی تین حصوں یعنی توریت ، زبور اور صحائف انبیاء پر مشتمل ہے ۔

آپ نے انجیل مقدس یعنی نئے عہدنامے کی بھی اس کے لکھے جانے سے پیشتر ہی توثیق کر دی ۔ اپنی تصلیب ، مرنے ، دوبارہ جی اٹھنے اور آسمان پر جانے سے پہلے آپ نے اپنے حوارئین کو بتا دیا کہ جلد ہی ان پر روح القدس نازل ہوگا ۔وہ انہیں ساری باتیں یاد دلائے گا  جو انھوں نے آپ سے سنیں ۔ آپ نے ان سے وعدہ کیا کہ روح القدس انہیں تمام سچائی کی راہ دکھائے گا ( یوحنا  14:  26, 16 :13;؛   1یوحنا   2 :2 0,27  ) ۔ یہی وجہ ہے کہ جب المسیح کے تابعین نے تبلیغ شروع کی تو گواہی دی کہ ’ہم ان باتوں کو ان الفاظ میں نہیں بیان کرتے جو انسانی حکمت نے  ہم کو سکھائے ہوں بلکہ ان الفاظ میں جو روح یعنی روح القدس نے سکھائے ہیں‘ ( 1 کرنتھیوں 2 : 13)

طریقہ الہام

خدائے ذو الجلال نے اپنے مخصوس بندوں پر اپنے پاک کلام کو منکشف کرنے کے لئے بہت سارے طریقے استعمال کئے۔ بعض کے ساتھ وہ براہ راست ہم کلام ہوا اور دوسروں کے پاس اپنے فرشتوں کو بھیجا ۔ کئی ایک کو اس نے خواب اور رویا میں اپنا کلام عطا کیا ۔ انہوں نے اپنی ذہانت اور ذاتی اسلوب کو کام میں لاتے ہوئے اس کلام کو لکھا، لکھوایا یا اسے اپنی زبان سے لوگوں تک پہنچایا ۔ حق تعالیٰ نے بسا اوقات انہیں آزادی بخشی کہ وہ اسے اپنے ذاتی پس منظر، شخصیت، ذخیرہ الفاظ اور اسلوب میں لکھیں اور منادی کریں ۔

کلام مقدس میں آتا ہے ۔’تیرا کلام میرے قدموں کے لئے چراغ اور میری راہ کے لئے روشنی ہے‘ ( زبور 119  : 105)

مقصد الہام

خدائے بزرگ و برترکے الہام کا مقصد ایک ہی رہا ہے کہ اس کے بندے اس  کی اطاعت قبول کرکے  اس کے احکام  پر عمل کریں ۔ ہمیں کلام مقدس میں اس قسم کی کئی ایک مثالیں ملتی ہیں ۔ مثلاً حضرت ابراہیم کی سوانح  حیات  کہ کس طرح خدا کے سامنے دستبردار ہوئے اور فرمانبرداری  کے تقاضہ کو پورا  کرتے ہوئے ایک اجنبی  ملک کی طرف روانہ ہوئے اورساری  زندگی  وہاں گزار دی ۔  ان کے ایمان ،فرمان برداری اور راستبازی کی وجہ  سے ان کو خلیل اللہ کا لقب خداوند تعالیٰ نے دیا ۔ حضرت موسیٰ کی مثال لے لیجئے ۔  دنیاوی طور پر فرعون کے محل میں عیش کی زندگی گزار سکتے تھے لیکن  خداوند کے حضور سر خم کر دیا  اور اس کے الہامی احکام کی پیروی کرتے ہوئے اسرائیل کو مصر کی غلامی سے  آزاد کرنے کی سربراہی قبول کی ۔   پھر حضور المسیح کی حیات کی مثال ہمارے سامنے ہے  کہ کس طرح  ابن آدم کی حیثیت سے انسانوں کی نجات کے لئے اپنی جان دینے کے لئے  آئے تاکہ الہامی اور ازلی مقصد پوری کر دیں ۔

جہاں تک دستبرداری اور خدا کے حضور سر خم کرنے کی بات ہے مسیحیوں اور مسلمانوں کا اس پر اتفاق ہے  اور دونوں یہ ایمان بھی رکھتے ہیں جیسے کلام مقدس میں آتا ہے ’ گزرے ہوئے زمانہ میں خدا نے ہمارے آباو جداد سے کئی موقعوں پر مختلف طریقوں سے نبیوں کی معرفت کلام کیا ۔‘  البتہ مسیحی ایمان یہ بھی ہے کہ آخر کار خدائے تعالیٰ نے تمام دنیا کے لئے اپنے پیغام اور مقصد کو حضور المسیح کے وسیلہ سے پورا کر دیا ۔  تاہم یہی وہ اہم پہلو ہے کہ  مسلمان اس حقیقت کا انکار کرتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ مسیح صرف اسرائیل کے لئے آئے تھے  ۔ ان کے چھ سو سال بعد پیغمبر اسلام آئے  جوتمام دنیا کے لئے آئے ۔   

پیغام میں یکسانیت

عزیز ناظرین ! اہل اسلام کے اس انکار کے باوجود سچ تو یہ ہے کہ جب ہم کلام مقدس کے حقائق پر نظر ڈالتے ہیں توہمیں اس کے پیغام میں یکسانیت نظر آتی ہے ۔  شروع سے آخر تک ایک ہی داستان ہے اور وہ  ہے بنی نوع انسان کے لئے خدا کے منصوبہ نجات کی داستان ۔ پوری بائیبل میں ایک ہی پیغام ہے کیونکہ ایک ہی خدا ہے اور ایک ہی نسل انسان ۔ خدا میں کوئی تبدیلی نہیں آتی اور نہ ان مسائل میں جن کا بنی آدم سامنے کرتے ہیں ۔ انسان کو درپیش  سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ خدا کو کیسے جانے ۔  خدا نے صاف الفاظ میں بتا دیا ہے کہ چونکہ انسان خود سے پاک زندگی بسر نہیں کرتا اس بنا پر وہ  اس پاک ہستی کو جان نہیں سکتا ۔  کلام مقدس اس عالمگیر مسئلہ کو بیان  کرتے ہوئے بتاتاہے کہ خدائے بزرگ و برتر نے  اس مسئلے  کا حل بھی   بتایا ہے ۔اور وہ یہ کہ چونکہ خدائے تعالیٰ چاہتا ہے کہ سارے انسان نجات پائیں اور سچائی کی پہچان کو پہنچیں   اس نے مسیح کو اس دنیا میں   بھیجا بلکہ مقرر کر دیا ہےکہ نہ صرف اب بلکہ روز محشر میں بھی  وہ ہمارے شافع بنیں ۔ اس معاملہ پر گہرے طریقے سے  اگلی دفعہ غور کریں گے ۔

خداوند تعالیٰ کا اطمینان اور  اس کی ہدایت  آپ کے شامل حال ہو ۔