کتاب مقدس اور اسلامی تعلیمات

عموماً سننے میں آتا ہے کہ قرآن سے پہلی کی الہامی کتابوں میں تحریف کی گئی ہے ۔

کیا یہ دعویٰ قرآن کی روشنی میں سچ پر مبنی ہے ؟ روحانی بات چیت کے دوران عموماً یہ دعویٰ کچھ مسلمان احباب کرتے ہیں کہ  قرآن سے پہلی کی الہامی کتابوں یعنی توریت ، انجیل اور دیگرصحائف انبیاء میں تحریف کی گئی ہے لہذا  کتاب مقدس بائیبل کی تعلیمات پر ایمان وعمل کرنا عبث ہے ۔کیا ان کا یہ دعویٰ قرآن کی روشنی میں سچ پر مبنی ہے ؟  آئیے اس مسئلہ پر غور کرتے ہیں۔

یہ جاننا دلچسپی سے خالی نہیں کہ قرآن شریف  جس کی حقانیت پر مسلمان  پورا ایمان رکھتے ہیں وہ اس حقیقت کاحامی ہے کہ بائیبل مقدس خدا کا کلام ہے۔یہ خدا  ہی تو ہے جس نے قرآن سے پہلےصحائف بھیجے ۔

بائیبل مقدس  کے مختلف  حصوں کے لئے قرآن میں کئی ایک اصطلاحیں استعمال ہوئی ہیں ۔ مثلاً توریت جو بائیبل مقدس کی پہلی پانچ کتابیں ہیں  اور انجیل جو حضور المسیح کے وسیلہ سے ان کے حوارئین پر الہام کی گئی۔   سورۃ آل عمران کی آیت  3اور 4میں ان دونوں کو لوگوں کے لئے ہدایت کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے ۔ هُدًى لِّلنَّاسِ۔ اسی  طرح  سے حضرت داؤد ؑ  کیزبور کی کتاب جوایک سو پچاس زبوروں پر مشتمل ہے ۔اس کے بارے میں ازروئے قرآن خدا نے سورۃ الانبیاء آیت   105میں یہ فرمایا  وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ  اور ہم نے ذکر(توریت)  کے بعدزبور میں لکھ دیا کہ میرے نیک بندے زمین کے وارث ہوں گے ۔  عزیز ناظرین خدائے بزرگ و برتر کا یہ فرمان آج بھی کلام مقدس بائیبل کی کتاب  زبور 37  اور آیت 39 میں موجود ہے ۔ قرآن میں کتاب مقدس کی کتابوں کو صحف اور صحف الاولیٰ بھی کہا گیا ہے (سورۃ  طٰہ آیت 133؛ الاعلیٰ  18)۔

قرآن نے گزشتہ الہامی کتب یعنی تورات ، زبور ، صحائف انبیاء اور انجیل کے لئے   مجموعی  طورپر ’الکتاب ‘ کی اصطلاح بھی استعمال کی ہے اور عموماً  یہودیوں اور مسیحیوں کو ’اہل الکتاب‘ کہا ہے ۔ اور انہیں تورات اور انجیل کے احکامات  کی پیروی کی ہدایت کی ہے ۔مثلاً سورہ  المائدہ کی آیت  68:  يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لَسْتُمْ عَلَى شَيْءٍ حَتَّىَ تُقِيمُواْ التَّوْرَاةَ وَالإِنجِيلَ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ ۔ اے اہل کتاب جب تک تم تورات اور انجیل کو اور جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوئیں ان کو قائم نہ رکھوگے کچھ بھی راہ پر نہیں ہو سکتے ۔

لفظ تورات قرآن میں 18دفعہ آیا ہے ۔اسلامی اور مسیحی اصطلاح میں عموماً  تورات سے مراد  وہ مکاشفہ ہے جو خدائے بزرگ و برتر نے اپنے نبی حضرت موسیٰ کلیم اللہ پر نازل کیا ۔  تاہم یہ نام یہودی صحائف کے تمام مجموعے کے لئے بھی استعمال ہوا ہے ۔ جسے مسیحی عہد نامہ عتیق یا پرانا عہد نامہ کہتے ہیں ۔  اسی طرح سے لفظ انجیل قرآن میں 12دفعہ آیا ہے  ۔ یہ لفظ پاک نوشتوں کے اُس تمام مجموعے کی طرف اشارہ کرتا ہے جسے مسیحی عہد نامہ جدید یا نیا عہد نامہ کہتے ہیں ۔

یہاں یہ بات واضح ہو کہ قرآن یہ تاکید کرتا ہے کہ  توریت ، زبور ، صحائف انبیاء اور انجیل خدا کی کتابیں ، اس کا کلام ، اس کا نور ، اس کی ہدایت ، اس کی ضیاء اور فرقان ہیں (مثلاً سورۃ الانعام آیت 92، سورۃ ال عمران  آیات 3-4،  اور سورۃ القصص آیت 43) ۔ خصوصاً تورات اور انجیل کے بارے میں قرآن میں سورۃ المائدہ  کی آیت 44  میں یہ رقم ہے کہ خدا نے کہا ۔  إِنَّا أَنزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ ہم نے تورات نازل فرمائی جس میں ہدایت اور روشنی ہے ۔

اسی متن میں دو آیات کے بعد انجیل کے بارے میں یہ کہاگیا  ہے کہ ’ فِيهِ هُدًى وَنُورٌ وَمُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِينَ اس میں ہدایت اور نور ہے اور تورات کی جو اس سے پہلے ہے تصدیق کرتی ہے اور متقین کو ہدایت اور نصیحت  دیتی ہے  ۔ ایک اور جگہ سورہ الانعام آیت 155میں قرآن کی طرح توریت کوبھی کتاب کہا گیا ہے: ثُمَّ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ تَمَامًا عَلَى الَّذِيَ أَحْسَنَ وَتَفْصِيلاً لِّكُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً لَّعَلَّهُم بِلِقَاء رَبِّهِمْ يُؤْمِنُونَ ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تاکہ اپنی نعمت کو پوری کر دیں  ان پر جو نیکوکار ہیں ۔ اس میں تفصیل ہے ہر شے کی تاکہ اپنے رب کی رو برو  ہونے پر یقین کر لیں۔ اسی طرح سے سورۃ المؤمن آیات  53-54  میں یہ مرقوم ہے ۔ وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْهُدَى وَأَوْرَثْنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ الْكِتَابَ اور ہم نے موسیٰ کو ہدایت دی اور بنی اسرائیل کو اس کتاب کا وارث بنایا  ۔ هُدًى وَذِكْرَى لِأُولِي الْأَلْبَابِ عقل والوں کے لئے ہدایت اور نصیحت ہے .پھر سورۃ الانبیاء آیت 48  میں یہ کہا گیا ہے   وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى وَهَارُونَ الْفُرْقَانَ وَضِيَاء وَذِكْرًا لِّلْمُتَّقِينَ ۔ اور  ہم نے موسیٰ اور ہارون کو فرقان ، روشنی اور ذکر  پرہیزگاروں کے لئے عطاکی ۔ بالفاظ دیگر قرآن یہ کہہ رہا ہے کہ یہ کتابیں  رُشد و ہدایت کا ذریعہ ہیں :  هُدًى لِّلنَّاسِ

انجیل اور تورات بطور میزان

قرآن میں مسیحیوں  سے کہا گیا ہے کہ وہ انجیل مقدس کے مطابق  اپنے معاملات حل کیا کریں۔ ملاحظہ ہو سورۃ المائیدہ کی یہ آیت ۔   وَلْيَحْكُمْ أَهْلُ الإِنجِيلِ بِمَا أَنزَلَ اللّهُ فِيهِ وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللّهُ فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ ترجمہ یوں ہے کہ اہل انجیل کوچاہئے کہ جو احکام خدا نے اس میں نازل کئے ہیں اس کے مطابق حکم دیا کریں اور جو کوئی خدا کے نازل کئے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے گا تو ایسے لوگ نافرمان ہیں۔ پھر اسی سورۃ میں ہمیں یہ الفاظ بھی ملتے ہیں جس میں دونوں مسیحیوں اور یہودیوں کو توریت اور انجیل کے وارث ہونے کی حیثیت سے اہل کتاب کہا گیا ہے بلکہ انہیں ان الفاظ میں تلقین کی گئی ہے کہ :  يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لَسْتُمْ عَلَى شَيْءٍ حَتَّىَ تُقِيمُواْ التَّوْرَاةَ وَالإِنجِيلَ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ ۔ اے اہل کتاب جب تک تم تورات اور انجیل کو اور جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوئیں ان کو قائم نہ رکھوگے کچھ بھی راہ پر نہیں ہو سکتے ۔

اب اگر یہ کتابیں محرف ہوتیں تو قرآن نے کیسے اہل  کتاب سے  کہہ دیا کہ تورات اور انجیل پر عمل کرو ؟

عزیز ناظرین سچ تو یہ ہے کہ خدا کا کلام لا تبدیل ہے ۔قرآن خود  یہ گواہی دیتا ہے کہ کوئی بھی خدا کے کلام کو بدل نہیں سکتا۔ اس قرآن میں بار بار یہ دعویٰ دہرایا گیا ہے کہ : لاَ مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِ اللّهِ دوسری جگہ  لاَّ مُبَدِّلِ لِكَلِمَاتِهِ ایک اور جگہ لاَ تَبْدِيلَ لِكَلِمَاتِ اللّهِ ) سورہ الانعام آیات34, 115 سورہ یونس آیت  64اور سورہ الکھف آیت27)۔ صرف  قرآن ہی نہیں بلکہ قرآن سے سینکڑوں سال پہلے کلام مقدس میں یہی بات بتائی گئی ۔ حضرت یسعیاہ کی معرفت یہ کہا گیا: ’ گھاس مرجھا جاتی ہے اور پھول جھڑ جاتے ہیں لیکن ہمارے خدا کا کلام ابد تک قائم ہے ‘ (40:8) اس وعدہ کو نئے عہدنامہ میں حضور المسیح کے حواری پطرس نے بھی دہرایا ہے ۔ ’بشر گھاس کی مانند ہے  اور اس کی ساری شان و شوکت گھاس کے پھول کی مانند ، گھاس سوکھ جاتی ہے اور پھول گر جاتا ہے ، لیکن خدا کا کلام ابد تک قائم رہتا ہے‘( 1پطرس 1:25)

اب جو مسلمان احباب یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ کتاب مقدس میں تحریف کی گئی ہے ۔وہ ایک طرح سے قرآن سے گستاخی کے مرتکب ہیں کیونکہ قرآن الکتاب یعنی بائیبل  کو تحریف شدہ قرار نہیں دیتا ۔ اگر ایسا ہوتا تو اس کتاب کے پیروکاروں کو ہرگز نہ کہتا کہ توریت اور انجیل کے احکامات پر عمل کریں۔

جب ہم مزید تحقیق کرتے ہیں تو معلوم ہو جاتا ہے کہ قرآن میں جس جگہ تحریف کا ذکر آیا ہے وہ لفظی تحریف  نہیں بلکہ مدینہ کے چند یہودیوں پر پیغمبر اسلام کےالفاظ کو مروڑنے کا اور توریت میں معنوی تحریف کا الزام ہے ۔(مثلاً سورۃ  البقرہ آیت 75اورسورۃ النساء آیت 46)  یہ الزام پیغمبر اسلام نے اپنے نواح میں رہنے والے  کچھ یہودیوں پران کے الفاظ   توریت کی آیت کےغلط معنی کرنےاور تفہیم  کی بنا پر لگایا تھا ۔یہ ساری تفصیلات تفسیر طبری ، تفسیر رازی ، تفسیر بیضاوی جیسی مشہور کتابوں کے علاوہ ابن اسحاق اور ابن ہشام کی سیرۃ رسول میں آج بھی موجود ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ دورہ حاضرہ میں بھی کئی اہم  مسلمان علماء زیر لب یہ  مانتے ہیں کہ کوئی بھی خدا کے کلام کو تبدیل نہیں کر سکتا  مگر آیت کا غلط مطلب نکالنے کا قصور وار ہو سکتا ہے ۔لہذا لفظی تحریف نہیں بلکہ معنوی تحریف ہے ۔

 مسلمان احباب جانتے ہیں کہ کیسے کچھ اسلامی فرقے بھی قرآن کی معنوی تحریف کے ملزم ہیں ۔ اب اگر معنوی تحریف سے قرآن کی حقانیت پرکوئی حرف نہیں آتا تو پھر اس حقیقت کو بایئبل کے بارے میں اپنانے سے کیا احتراز ؟

کچھ مسلمان یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ظہور اسلام سے قبل انجیل اور توریت میں لفظی رد و بدل ہوا۔ اب اگر یہ سچ ہے تو پھر قرآن گزشتہ کتب سماوی کی تصدیق اور توثیق کیوں کرتا ہے؟ ظاہر ہے کہ قرآن جو کہ انجیل جلیل کے قلم بند ہونے  کے چھ سو سال بعد آیا ، کے مطابق الہامی کتابیں  ہر قسم کے بگاڑ سے پاک تھیں ۔ اگر یہ آسمانی کتابیں لفظی طور سے محرف ہوتیں تو قرآن ہرگز مسیحیوں اور  یہودیوں کو اپنی کتابوں پر عمل کی تلقین نہ کرتا۔ دراصل ایک جگہ  سورہ البقرہ آیت 121میں اہل کتاب کی یوں تعریف کی گئی ہے: الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلاَوَتِهِ ۔ کہ جن کو کتاب دی گئی وہ اس کو ویسے ہی پڑھتے ہیں جیسے اسے پڑھنے کا حق ہے

برصغیر ہند و پاکستان کے مشہور عالم مولانا مودودی اپنی تفہیم القرآن جلد اول میں اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں ہے کہ ’یہ اہل کتاب کے صالح عنصر کی طرف اشارہ ہے کہ یہ لوگ دیانت اور راستی کے ساتھ خدا کی کتاب کو پڑھتے ہیں‘

بعض مسلمان احباب یہ کہتے ہیں کہ آنحضرت کے اعلان نبوت کے بعد توریت اور انجیل میں رد و بدل کر دیا گیا ۔ ان کااس قسم کا الزام خودقرآن پر بہتان تراشی کے برابر ہے کیونکہ قرآن کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ گزشتہ الہامی کتابوں کا محافظ ہے ۔ وَمُهَيْمِنًا عَلَيْهِ  ۔  (سورۃ المائیدہ آیت 48) ۔ 

سوجو کوئی اصرار کرتا ہے کہ توریت اور انجیل کے متن میں تحریف ہو چکی ہے وہ قرآن پر بھی الزام لگاتا ہے کہ یہ ان کتب کی حفاظت کرنے میں ناکام رہا ہے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ اگر اسلام سے پہلے کی الہامی کتابیں بگڑ چکی ہوتیں تو قرآن مسلمانوں کو ان پر ایمان رکھنے کی ہدایت کیسے کرتا۔ ملاحظہ ہو سورہ بقرہ کی آیت 136  یہ آیت سورۃ آل عمران میں بھی موجود ہے ۔  قُولُواْ آمَنَّا بِاللّهِ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنزِلَ إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَقَ وَيَعْقُوبَ وَالأسْبَاطِ وَمَا أُوتِيَ مُوسَى وَعِيسَى وَمَا أُوتِيَ النَّبِيُّونَ مِن رَّبِّهِمْ لاَ نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ

کہو کہ ہم خدا پر ایمان لائے اور جو (کتاب) ہم پر اتری اس پر اور جو (صحیفے) ابراہیم اور اسماعیل اور اسحق اور یعقوب اور ان کی اولاد پر نازل ہوئے ان پر اور جو موسیٰ اور عیسیٰ کو عطا ہوئیں ان پر اور جو اور پیغمبروں   کو ان کے پروردگار کی طرف سے ملیں ان (سب پر ایمان لائے)اور ہم ان میں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے اور ہم اُس کے فرمان بردار ہیں

اب ہر کوئی ایماندار یہ جانتا ہے کہ ایمان اور عمل شانہ بشانہ چلتے ہیں ۔ ایمان لانے والے کی روزمرہ زندگی میں عمل کا پھل اس کے حقیقی ایمان کا ثبوت ہے ۔ کتنی عجیب بات ہے کہ کچھ مسلمان قرآن کی تلاوت میں یہ اقرار تو  کرتے ہیں  وَمَا أُوتِيَ مُوسَى وَعِيسَى لاَ نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْهُمْ کہ جو کچھ حضرت موسٰی اورحضور المسیح  پر اترا   ہم اس میں تفریق نہیں کرتے اور پھر اسی زبان سے یہ دعوی بھی کرتے ہیں   کہ وہ کتابیں منحرف ہوگئیں ہیں ۔  واہ یہ کیسا ایمان ہے ؟

 بحر حال یہ تو ہے قرآن کیگواہی کلام مقدس کی حقانیت کے بارے میں۔ آپ سے درخواست ہے کہ کلام مقدس بائیبل کا مطالعہ خود کریں اور دیکھیں کہ کس طرح خداوند ذوالجلال نے ہم سب کو ہمیشہ کی زندگی دینے کا انتظام کیا ہے اور کیسےاس کا مسکن اپنے ایمانداروں کے درمیان ہوگا ۔

خدائے بزرگ و برتر کو منظور ہوا تو آپ سے دوبارہ ملاقات ہوگی

 أبانا رب السَّماوات ولارضِ،  اغفِرْ لَنا خَطايانا وذُنُوبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيِّئَاتِنَا بِاسْمِ سیدنا يَسُوعَ المَسِيحِ

 اے ہمارے باپ تو جو آسمانوں اور زمین کا مالک ہے ، ہماری خطاؤں اور گناہوں کو معاف کردے اور ہماری برائیوں کو ہم سے دور کردے ہمارے حضور یسوع المسیح کے نام میں ۔