بائیبل مقدس کی حقانیت اور مسلمان دوستوں سے چند سوال

 

ازروئے اسلام  اسلامی کتب میں قرآن اور احادیث ہی حرف ِ آخر ہیں ۔ مسلمان یہ ایمان رکھتے ہیں کہ قرآن اللہ کا الہی مکاشفہ ہے، ان کے نزدیک ہر لفظ حتیٰ کہ اعراب بھی نازل کردہ ہیں اور ہرسورۃ پورے باب کا پیشہ خیمہ ہے اور اس کی تلاوت پر خداوند تعالیٰ نیکیاں لکھتا ہے جو قیا مت کے دن حساب کتاب میں کام آئیں گی  ۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق پیغمبراسلام انسان  کامل کے طور پر ایک نمونہ ہیں اور  ان کی تقلید ہر مسلمان پر فرض ہے۔ جو کچھ انہوں نے کہا  وہ حدیث کہلاتی ہے اور عمل میں لائے وہ سنت  ہے۔ احادیث  کا ایک ضخیم  ذخیرہ موجود ہے ۔ عموماً مسلمان قرآن کے  ساتھ  صحیح بخاری ، صحیح مسلم، سنن ابو داؤد ، سنن ترمذی، سنن ابنِ ماجہ، اور سنن نسائی میں درج روایات کو اپنے علم  اور تربیت میں شامل کرتے ہیں ۔ دوسرے درجے میں تبع تابعین  ، ابتدائی مفسرین اور فقہا کی تعلیمات اور فتاوٰی کو ترجیح دی جاتی ہے ۔

بائبل مقدس سے متعلق قرآنی تعلیمات اور علماء کی توضیحات:

اسلامی تعلیمات تضاد کا شکار ہیں۔ ایک طرف تو قرآن سے پہلے نازل صحیفوں کو اعلی رتبے سے نوازا جاتا ہے تو دوسری طرف  بہت سے مسلمان  علماء  دعوی بھی کرتے ہیں کہ یہ کتب تحریف کا شکار ہوچکیں ہیں اور  اپنی اصل حالت میں موجود نہیں! چونکہ قرآن اول درجے پر گنا جاتا ہے لہٰذا  اس کی تعلیم پر غور کرتے ہیں ۔

یہودی اور مسیحی صحائف کو قرآن میں نہائیت ادب و احترام کے ساتھ مخاطب کیا گیا ہے ، اور نہائیت معزز القابات سے نوازا گیا ہے ، مثلاً: خدا کی کتاب،  خدا کا کلام،  بنی نوع انسان کے لئے نور و ہدایت،   معیار القدر،  انجیل جو کہ ہدایت و نور ہے اور پچھلی کتاب یعنی توارۃ کی تصدیق کرتی ہے ، اور جو خدا تعالیٰ سے ڈرتے ہیں ان کے لئے ہدائیت اور انتباہ ہے (سورۃ  بقرہ  آیات ۵۳ ،۸۷ ، ۱۰۱ ،  سورۃآل عمران آیات ۳،۴، ۲۳  ،  سورۃ المائیدہ آیات ،  ۴۴۔۴۵  ،  سورۃ المومن آیات ۵۳ ۔۵۴  وغیرہ وغیرہ )

سورہ المائدہ میں  یہ بتانے کے بعد کہ تورات میں خدا کے احکامات  ،  ہدایت اور نور ہے  اور جسے تمام  انبیاء نے قبول کیا، قرآن  بتاتا ہے کہ کس طرح خدا نے  حضور المسیح کو اس دنیا میں بھیجا ۔    

وَقَفَّيْنَا عَلَىٰ آثَارِهِم بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ ۖ وَآتَيْنَاهُ الْإِنجِيلَ فِيهِ هُدًى وَنُورٌ وَمُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِينَ (سورۃ المائدہ آیت ۴۶)  ترجمہ: اور ان پیغمبروں کے بعد انہی کے قدموں پر ہم نے عیسیٰ بن مریم کو بھیجا جو اپنے سے پہلے کی کتاب تورات کی تصدیق کرتے تھے اور ان کو انجیل عنایت کی جس میں ہدایت اور نور ہے اور تورات کی جو اس سے پہلی کتاب (ہے) تصدیق کرتی ہے اور پرہیزگاروں کو راہ بتاتی اور نصیحت کرتی ہے۔

اسی سورۃ کی آیت ۶۸ میں اہل کتاب یعنی دونوں یہودیوں او ر مسیحیوں کو یہ کہا گیا ہے:

قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لَسْتُمْ عَلَى شَيْءٍ حَتَّىَ تُقِيمُواْ التَّوْرَاةَ وَالإِنجِيلَ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ

 ترجمہ:  ’اے اہل کتاب جب تک تم تورات اور انجیل کو (اور دیگر کتابیں) تمہارے رب کی طرف سے تم لوگوں پر نازل ہوئیں   ان کو قائم نہ رکھوگے تو کچھ بھی راہ پر نہیں ہو سکتے ‘

اب اگر یہ کہا جائے کہ تورات اور انجیل اور دیگر کتا بیں جو بائیبل میں موجود ہیں وہ تبدیل کر دی گئیں ہیں تو قرآن  کی یہ نصیحت بے معنی ٹھہری۔  لیکن حق تویہ ہے کہ یہ کتابیں قرآن کی رو سے لا تبدیل ہیں ۔  ذرا سوچئے کہ کیا خدا  پیغمبر اسلام  سے یہ کہہ سکتا تھا کہ اے رسول اپنی تعلیم  کے بارے میں شک کو دور کرنے کے لئے  مشورہ کے لئے مسیحیوں اور یہودیوں سے رابطہ کرسکتے ہو ۔ دیکھئے سورۃ یونس اور آیت ۹۴

 فَإِن كُنتَ فِي شَكٍّ مِّمَّا أَنزَلْنَا إِلَيْكَ فَاسْأَلِ الَّذِينَ يَقْرَءُونَ الْكِتَابَ مِن قَبْلِكَ ۚ لَقَدْ جَاءَكَ الْحَقُّ مِن رَّبِّكَ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ

ترجمہ: اگر تم کو اس (کتاب کے) بارے میں جو ہم نے تم پر نازل کی ہے کچھ شک ہو تو جو لوگ تم سے پہلے کی (اُتری ہوئی) کتابیں پڑھتے ہیں ان سے پوچھ لو۔ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس حق آچکا ہے تو تم ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا۔

قرآن کا دعویٰ ہے کہ کلام خدا کو کوئی تبدیل نہیں کرسکتا!

کئی آیات میں ذکر ہے کہ اس کے کلام میں تبدیلی ممکن نہیں لا تبدیل لکلمات اللہ  (مثلاً سورۃ  الانعام آیت ۳۴  اور ۱۱۶ ؛ سورۃ یونس آیت  ۶۴ ) ۔   اس کے باوجود کچھ مسلمان  علماء  یہ تعلیم دیتے ہیں کہ یہودیوں اور مسیحیوں نے اپنی پاک کتابوں کو بدل ڈالا ۔  یہ ایک متنازعہ بیان ہے کیونکہ حقیقت میں اللہ اور پیغمبر اسلام  مسلمانوں کو کبھی یہ ہدائیت نہیں دے سکتے تھے کہ وہ تحریف شدہ توراۃ اور انجیل کو الہامی مانیں۔ قرآن کے اپنی گواہی یہ ہے کہ یہ تصدیق کرتا ہے جو کتابیں یعنی توراۃ اور انجیل اہل کتاب کےہاتھوں میں موجود تھی ۔ یہ زمانہ ساتویں صدی بلکہ ۶۲۴ سے ۶۲۷ کا وقت تھا ۔ پیغمبر اسلام  بقید حیات تھے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ آج بھی بہت سے نسخے کلام مقدس کے موجود ہیں جو پیغمبر اسلام سے بھی بہت پہلے کے زمانہ کے ہیں ۔ بہرحال ازروئے قرآن بائیبل حقیقتاً مستند مانی گئی ۔کیونکہ اسلامی ایمان کا تقاضہ ہےکہ جو کچھ حضرت موسیٰ اور حضرت مسیح پر اترا،  اس پر ایمان لائیں اور ان  میں سےکسی  میں تفریق  نہ کریں  : (مثلاً  سورۃ آل عمرٰان  آیت ۸۴ ) 

عہد عتیق یا پرانا عہد نامہ:

کتاب مقدس کا یہ حصہ  ۳۹  کتب پر مشتمل ہے،  یہودیوں کے لئے بھی پاک کتاب ہے ۔ یہ سب سے پہلے عبرانی زبان میں لکھی گئی ، جن میں سے مخصوص حصے جن کی تعداد قلیل ہے ارامی زبان میں تحریر ہوئے جو کہ یہودیوں کی قدیم زبان تھی۔   ۱۹۴۷     تک دنیا میں عہدعتیق کے نسخہ جات کا تعلق نویں اور دسویں صدی بعد از مسیح سے تھا،  پھر بحیرہء مردار کے طوماروں کی دریافت نے صورتحال تبدیل کردی ۔ یہ طومار جن کا  دوران زمانہ    ۲۰۰ سال قبل از مسیح سے ۶۸ سال بعد از مسیح کا ہے ، ہو بہو ان نسخوں سے مشبہات رکھتے ہیں جن کا تعلق نویں صدی عیسوی سے ہے۔ اس ایک ہزار سال کے عرصے میں کاتبین نقل کرتے ہوئے نہائیت ہی خفیف سی غلطی کے مرتکب ہوئے۔  اس کے باوجود ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ آج جو عہدعتیق مسیحیوں کے پاس دستیاب ہے یہ ہو بہو اس ہی کی نقل ہے  جو پیغمبر اسلام  کے دنوں میں مسیحیوں کے زیر استعمال تھا۔

 عہدنامہ جدید:

کچھ مسلمانوں کا خیال ہے کہ جس انجیل کی قرآن بات کرتا ہے وہ اس انجیل سے مختلف ہے جو مسیحیوں کے زیر استعمال ہے ۔ انا جیل اربعہ جن کو مسیح کے پیروکاروں  نے مستند مانا ہے ،  وہ ان پر اعتراض کرتے ہیں۔ ان کے مطابق انجیل جو مسیح یسوع پر نازل ہوئی، جو انہوں نے سنائی اور جس کی تعلیم دی وہ ایک ہی تھی۔ اور جو کچھ موجودہ انجیل میں دستیاب ہے،  وہ مکمل نہیں۔  ان کا یہ اعتراض صحیح نہیں کیونکہ  لائبریریوں میں  کثیر نسخے موجود ہیں جو پیغمبر اسلام کے زمانے سے پہلے کے ہیں اور ان کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ جو تعلیم ہم انجیل مقدس میں دیکھتے ہیں وہی تعلیم ان نسخوں میں بھی ہے ۔

اعلی الہام:

کچھ مسلمانوں کے نزدیک بائبل کی صحت تمام شکوک سے بآلاتر ہے ، لیکن وہ الہام کے ارتقائی نظریہ کو اپناتے ہوئے یہ ایمان رکھتے ہیں کہ قرآن پچھلے تمام الہامات سے افضل حیثیت کا حامل ہے ۔ ان کے مطابق، قرآن ،  خدا تعالیٰ کی جانب سے عطاکردہ الہام کی آخری کڑی ہے ۔

اس قسم کےعقیدہ  سے اسلام کے لئے ایک بہت بڑا مسئلہ پیدا ہوجاتا ہے ۔ مثلاً ازروئے کلام مقدس بائیبل  مسیحی تعلیم یہ ہے کہ حضور المسیح  نجات دہندہ ہیں اور ہمیشہ کی زندگی صرف ان کے وسیلہ سے دی گئی ہے  کیونکہ مسیح نے  آکر اپنی زندگی عہد عتیق میں دی گئی پیشن گوئیوں کی روشنی میں دی بلکہ دوبارہ جی کر موت   پر فتح پائی۔ کلام مقدس میں یہ لکھا ہے کہ مسیح نے فرمایا  ’ضرور ہے کہ جتنی باتیں موسیٰ کی توریت اور نبیوں کے صحیفوں اور زبور میں میری بابت لکھی ہیں پوری ہوں ‘ (لوقا ۲۴ باب آیت ۴۴ )    لیکن اسلامی تعلیم  اس کے بر عکس ہے ۔

تحریف کا الزام اور اس کا مطلب :

قرآن میں ’تحریف‘  کے لفظ کے استعمال کا یہ مطلب نہیں کہ بائیبل کے متن کو تبدیل کر دیا گیا۔ یہ لفظ تحریف یہودیوں کے خلاف ’حق کے چھپانے ‘ کے معنوں میں استعمال کیا گیا گیا ہے  یعنی وہ آیات کی اصل تفسیر نہیں بتاتے  ۔ قرآن میں یہ لفظ  دو طرح سے استعمال ہوا ہے ۔

۱ ۔   غلط تلفظ کا استعمال  ۔ مثلاً قرآن میں پیغمبر اسلام کے نواح میں رہنے والے یہودیوں پر یہ الزام لگایا گیاتھا کہ وہ جاں بوجھ کر  رسولؑ کے الفاظ کو مروڑتے  تاکہ اس کا مطلب کچھ اور نکل آئے ۔   اس کا تذکرہ قرآن  میں سورۃ   آل عمران آیت  ۷۸ اور سورۃ النساء آیت ۴۶ میں ملتا ہے ۔  امام  رازی کی تفسیر الکبیر ان آیات پر روشنی دالتی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ   اللہ کا کلام کوئی تبدیل نہیں  کرسکتا ۔ اس لئے یہ   معنوی تحریف  ہے نہ کہ لفظی تحریف۔

۲۔  آیات کی غلط تفسیر کرنا ۔ مثلاً   سورۃ بقرہ آیت ۷۵ میں بیان ہے کہ کچھ کلام خدا کو سنتے اور سمجھنے کے باوجود اس کو بدل دیتے ۔ اس آیت پر طبریٰ کا کہنا ہے کہ سمجھنے کے بعد اپنا مطلب نکالنے لگے ۔ اسی طرح  شاہ ولی اللہ  اپنی کتاب  الفوز الکبیر  فی اصول التفسیر میں  اسی بات کو مانتے ہیں ۔

چندسوالات جن کا جواب مسلمان احباب کو ضرور سوچنا چاہیے؟

v اگر کتاب مقدس تبدیل ہو چکی ہے تو پھر مسلمانوں کو یہ تنبیہ کیوں کہ وہ توراۃ ،  زبور،  نبیوں کی کتابوں اور انجیل پر ایمان رکھیں؟ یاد رہے کہ ایمان و عمل ساتھ ساتھ ہیں ۔

v  خداتعالیٰ کا  فرمان ہے کہ اس کا کلام لاتبدیل ہے ،  اس الہیٰ دعویٰ کا کیا کیجیئے گا؟

v کلام الہیٰ  کب تبدیل ہوا ، کیا خدا نے اس کا نوٹس لیا؟

v اگر خدا کا ارادہ ہوتا، تو کیا وہ اپنے کلام کی حفاظت کرسکتا تھا؟

vاگر خدا تعالیٰ اپنے قرآن سے پہلے کے کلام کی حفاظت نہ کرسکا یا نہیں کرسکتا تھا تو  کس طرح ہم یہ سمجھ لیں کہ وہ قرآن کو محفوظ رکھ سکتا تھا؟

vاگر قرآن میں یہ اعتراض تحریری طور پر موجود ہے کہ کتب مقدسہ تحریری طور پر تبدیل ہوچکی ہیں تو ان پر ایمان و عمل کی تلقین کیوں؟

vاگر بائبل مقدس تبدیل ہو چکی ہے تو پھر قرآن میں یہ کیوں آیا ہے کہ وہ توراۃ کے مطابق انصاف کریں، یا مسیحیوں کے لئے کہ وہ انجیل کی روشنی میں فیصلے کیا کریں ؟ دوسرے لفظوںمیں  پیغمبراسلام یا مسلمان کس بنا پر کتاب مقدس کے مطابق انصاف کا تقاضا کرسکتے ہیں اگر وہ بدل چکی ہے؟

vجب ہزاروں کی تعداد میں مختلف پرانے  نسخے اور تراجم موجود ہوں اور نقول دستیاب ہوں تو کوئی کس طرح سے ان تمام کتب کو تبدیل کرسکتا ہے ؟

vکب اور کہاں لاتبدیل شدہ بائبل مقدس گردش میں تھی   اور اب وہ کہاں ہے ؟

vتاریخ گواہ ہے کہ بہت سے  مسیحیوں نے  اس کتاب کو دوسروںتک پہنچانے میں اپنی زندگی وقف کی اور موت کو گوارا کیا ۔ وہ کیسے اپنی کتاب جو کہ تبدیل شدہ ہو یہ سب کچھ گوارا کرتے؟

vآپ کو یہ کیسے معلوم ہوا کہ کتاب مقدس تبدیل ہو چکی ہے ؟

خدائے بزرگ و برتر  جو تمام علم و عالم کا خالق و مالک ہے کیسے اس بات پر راضی ہو اکہ اس کے کلام میں تحریف کی جائے؟ وہ اپنے کلام کی خود حفاظت کرتا ہے کیونکہ جو کچھ اس نے فرمایا ہے اسے ضرور ہونا ہے!  ورنہ وہ جھوٹا ٹھہریگا۔ صاف الفاظ میں اس نے کلام مقدس میں یہ کہا ہے کہ جو وہ کہتا ہے  وہ ضرور اسے پورا کریگا۔ یقیناً   اس کی گواہی اور صداقت ، کتاب مقدس کے مستند ہونے  کے بارے میں  بذات خود ایک بڑی دلیل  ہے ۔